Responsive Advertisement

Wednesday, August 9, 2023

ہیلکس نیبولا Helix Nebula

 ہیلکس نیبولا (Helix Nebula)



 


موت بہت ہی بھیانک حقیقت ہے مگر صرف انسانوں کے لیے انسانوں کی ہی موت۔ بلکہ صرف انھی انسانوں کی جو اسے بہت عزیز ہیں۔ 

عقل تو تسلیم تک کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ 

پر جب ہم اپنی نظر کائنات کی وسعتوں کی طرف کریں۔ 

ہمیں اموات بھی بہت ہی زیادہ خوبصورت اور حیرت انگیز لگتیں ہیں۔ 

یہ اموات ظاہر ہے ستاروں کی ہیں۔ 




ہم انھیں دیکھ کر حیرت میں پڑ جاتے ہیں ان کی خوبصورت تصاویر لیتے ہیں ، ٹیلی اسکوپ سے ان کا نظارہ کرتے ہیں اور پھر گھنٹوں، دنوں، مہینوں حتیٰ کہ سالوں کی محنت لگا کر دل آویز اور دل کو چھولینے والی تصاویر بنا کر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ قدرت کے دلفریب نظاروں سے باقیوں کو بھی محظوظ کرتے ہیں۔ 


ہیلکس نیبولا بھی قدرت کے ان گنت دل آویز اجسام میں سے ایک ہے یہ ایک بہت بڑا سیاروی نیبولا ہے۔ 

ہیلکس نیبولا کی زمین سے دوری تقریبا ساڑھے چھے سو نوری سال کی ہے۔ 

ہیلکس نیبولا برج ایکویریس میں موجود ہے اور یہ سیاروی نیبولا زمین کے قریبی اور چمکدارسیاروی نیبولوں میں سے ہے۔ 


اسکا ظاہری میگنیٹیوڈ لگ بھگ سات اعشاریہ چھے (7.6 ) اور ظاہری حجم تقریبا پچیس آرک منٹس (arcminutes)ہے۔ اگر موسم خوشگوار ہو تب اس نیبولے کا نظارہ ہم چھوٹے ٹیلی اسکوپ اور حتیٰ کہ بائنوکولرز سے بھی کر سکتے ہیں۔ 


ہم انسانوں کو بہت عجیب طرح کے خبط رہے ہیں انھی کی وجہ سے ہم خوبصورت چیزؤں کو بہت عظیم تر اور مقدس ہستی یا پھر اپنے محبوب ہستیوں کے ساتھ کسی نہ کسی طرح منسوب کرتے رہتے ہیں ایسا ہیلکس نیبولا کے ساتھ بھی ہے۔ 

اسکی دل کو چھو لینے والی خوبصورتی کیوجہ سے اس کے نام بھی منسوب کیے گئے ہیں۔ ْ

جیسے خدا کی آنکھ نیبولا(God’s Eye Nebula)۔ سیاروی نیبولے بننے کی ایک وجہ یہ ہے کہ جن ستاروں کی یادگار ہوتے ہیں وہ اتنے زیادہ کمیتی(میسیو) نہیں ہوتے،اب چوں کہ وہ اتنے زیادہ کمیت والے نہ ہوئے لہذا وہ اپنی حیات کے سفر کا اختتام سپر نووا کی شکل میں کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔





ستاروں کا مرکز 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ستاروں کا مرکزے سفید بونوں میں تبدیل ہوجاتا ہے جس کے بعد بچا کچا مواد باہر کی طرف خارج ہوتا ہے۔ 

سفید بونے بہت کثیفی ہوتے ہیں۔

مگر ان کا حجم اتنا زیادہ نہیں ہوتا، بس فرض کریں کہ اگر کسی کی کمیت ہمارے سورج کی کمیت کے برابر ہے تب اسکا حجم صرف ہماری زمین جتنا ہی ہوگا۔ 

اب ہوتا کیا ہے ان ستاروں سے بہت شدید الٹراوائلٹ اشعاعیں خارج ہوتی ہیں،جس کی وجہ سے بچی کچی گیسی تہیں چمکتی رہتی ہیں۔ 


ماہرین کا اندازہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ ہیلکس نیبولے کا مرکز ستارہ (GJ 9785) جب اپنی حیات کے سفر کے آخری مراحل میں تھا ، اس نے تقریبا دس ہزار چھے سو سال پہلے ،اس نے اپنی تہیں(layers ) خلا میں بکھیر دیں۔

اس حساب سے ہیلکس نیبولا کی جو عمر ہے وہ لگ بھگ نو ہزار چار سو سال کے آس پاس گمان کی جاتی ہے۔ اب تھوڑی بات اس تصویر پر کرلیتے ہیں۔ 

اس تصویر میں آپ کو نیبولا کے مرکز میں ، نیلگوسبز مائل چمک نظر آرہی ہوگی ، یہاں پر آکسیجن کے ایٹموں میں ،شدید الٹراوائلٹ شعاعیں پڑتی ہیں جس وجہ سے یہ نیلگوسبزمائل چمک رہا ہے۔ 

جو سرخ سا رنگ نظر آرہا ہے یہ ہائیڈروجن اور نائٹروجن کی موجودگی کا ہے۔ 


ہیلکس نیبولا کے نام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہیلکس نیبولا کے نام کی وجہ یہی ہے کیوں کہ یہ ہمیں ایسے ظاہر ہوتا ہے جیسے ہیلکس ہو۔ 

اس کی دوہری رنگز ایسی لگتی ہیں جیسے دو کنڈلیاں سپرنگ پر ہوں۔ ہیلکس نیبولا اور ڈبل ہیلکس نیبولا سے کنفیوزمت ہوجائیے گا۔ 

وہ ڈبل ہیلکس نیبولا ملکی وے کے مرکز کے قریب ہے،اور اس کی صورت بھی ہمیں اطراف سے ڈی این اے کے مولیکول جیسے لگتی ہے۔

مگر جس ہیلکس نیبولا کی ہم بات کر رہے ہیں یہ اور ہے۔ 


انیس سو اٹھانوے میں ماہر فلکیات 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انیس سو اٹھانوے میں ماہر فلکیات سی آر او ڈیل نے ایک ماڈل تجویز کیا تھا ، جس میں ہیلکس نیبولا کی رنگز بہت ہی موٹی تجویز کی گئی۔ 

انیس سے ننانوے کی تحقیق سے پتا چلا تھا کہ جو ماڈل سی آر او ڈیل نے پیش کیا وہ درست ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی دریافت ہوا کہ ہیلکس ایک ڈسک ہے جس کا ڈایا میٹر تقریبا ایک پارسیک ہے ،اور اس کی موٹائی تقریبا 0.33 پارسیک ہے ۔ یہ ماڈل یہ بھی تجویز کرتا ہے کہ ڈسک تقریبا تیس ڈگری پر جھکی ہے۔


ماہرین کا خیال

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہرین کا خیال  ہے کہ ہیلکس نیبولا کی دو ڈسکیں ہیں، یہ دونوں عمودا ہیں۔ 

اس نیبولا کے مراکزی حصے کا بیشتر حصہ آئیونائز گیس پر مشتمل ہے۔ 

اور اس کے اندر اور باہر رمز بھی ہیں۔ 

یہ نیبولا کم و بیش پانچ سو چوہتر نوری سالوں پر محیط ہے۔ 

ہیلکس نیبولا کی مرکزی رنگ تقریبا دو نوری سال تک پھیلی ہوئی ہے ، اور نیبولا کا جو مواد ہے وہ بھی تقریبا مزید دو نوری سال تک پھیلا ہوا ہے۔ 

جب کہ باہری رنگ کا ظاہری حجم تقریبا پچیس آرک منٹ ہے ، یہ ظاہری حجم لگ بھگ ہمارے چاند کے حجم جتنا لگتا ہے۔ 

(یہ ظاہری حجم ہے ،حقیقت میں ہیلکس نیبولا بہت بڑا ہے) جب کہ باہر ٹورس نے جو بھی حجم گھیررکھا ہے وہ بارہ ضرب بائیس آرک منٹس ہیں۔ 


جب کہ روشن اندرونی ڈسک کا زاویائی حجم آٹھ ضرب انیس کے آرک منٹس پر مشتمل ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس نیبولے نے آج سے تقریبا بارہ ہزار ایک سو سال پہلے پھیلنا شروع کیا تھا۔ 


جب کہ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مجموعی طور پر اسے پھیلتے ہوئے چھےہزار پانچ سو ساٹھ سال ہی ہوئے ہیں۔ ہیلکس نیبولا کی اندرونی ڈسک جو ہے اس کے پھیلنے کی رفتار بیتس کلو میٹر فی سیکنڈ ہےجب کہ باہر رنگ کی پھیلنے کی رفتار چالیس کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔


حیران کن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک چیز یہ بھی حیران کن ہے کہ ہیلکس نیبولا بہت روشن ہے حتیٰ کہ یہ ان چار سیاروی نیبولا سے بھی روشن ہے جنھیں میسژر کیٹالاگ میں شامل کیا گیا ہے ،یہ چار سیاروی روشن نیبولے درج ذیل ہیں۔

ڈمبل نیبولا

رنگ نیبولا

لٹل ڈمبل نیبولا

الو نیبولا


نتیجہ

۔۔۔۔۔۔۔۔

ان چاروں سے روشن نیبولا ہونے کے باوجود فرنچ کے ماہر فلکیات چارلس میسژر نے ہیلکس نیبولا کو اپنے کیٹالاگ میں شامل نہ کیا۔ 

No comments:

Post a Comment

Comments