Responsive Advertisement

Thursday, August 3, 2023

مفتی فیض احمد اویسی کا مختصر تذکرہ

مفتی فیض احمد اویسی کا مختصر تذکرہ


مختصر تذکرہ مفتی فیض احمد اویسی علیہ الرحمہ



محقق اعظم رائس المصنفین شیخ الحدیث والتفسیر محدث بہاولپوری حضرت علا مولانا مفتی فیض احمد عباسی اویسی قادری رحمۃ اللہ علیہ


پیدائش: مفتی فیض احمد اویسی علیہ الرحمہ کی پیدائش مولانا نور احمد اویسی کے گھر 1351ھ / 1932ء میں ضلع رحیم یار خان پنجاب تحصیل خانپور کے گاؤں حامد آباد میں ہوئی۔


خاندان و نسب نامہ: آپ کا سلسلہ نسب کچھ یوں ہے کہ مفتی فیض احمد اویسی بن مولانا نور احمد بن مولانا محمد حامد بن محمد کمال رحمۃ اللہ علیہم ﺁﭖ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﻗﺒﯿﻠﮧ ﻻﮌ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ آپ کا سلسلہ نسب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا محترم ﺣﻀﺮﺕ سیدنا ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﷲ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ اس لئے آپ نسبا عباسی ہے۔ 

ﺟﻮﮐﮧ ﺗﺒﻠﯿﻎ ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯿﮟ ﮐﮯ ﮨﻮﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔

ﺁﭖ ﮐﺎ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﻣﯿﮟ ﺁﺑﺎﺩ ﺗﮭﺎ۔ 

پھر ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ضلع ﺭﺣﯿﻢ ﯾﺎﺭ ﺧﺎﻥ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮨﻮﺍ۔ اس کے بعد آپ بہاولپور پنجاب میں رہائش پزیر ہوئے۔

مفتی فیض احمد اویسی ایک اعلیٰ اور عمدہ عالم دین اور مفسر و محدث،، شارح بخاری و مسلم، مترجم، مصنف، صوفی، شاعر اور شیخ الحدیث وغیرہ تھے۔


ابتدائی تعلیم: انہوں نے چار سال چار ماہ اور چار ہفتے کے عرصے کے اندر اپنے والد نور احمد اویسی سے رسم تسمیہ کے بعد ناظرہ قرآن مجید پڑھا پھر اسکول میں داخل ہوئے۔ 

پانچ جماعتیں پڑھیں پھر قرآن مجید حفظ کرنے میں مصروف ہو گئے۔ 1942ء تا 1946ء یعنی تین سال کے اندر قرآن مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔ 

پھر آپ نے پرائمری کی تعلیم حکیم ﷲ بخش، کریم بخش اور خیر محمد سے حاصل کی اور حافظ جان محمد حافظ محمد سراج اور حافظ غلام یاسین سے قرآن مجید حفظ کیا۔ 1946ء میں نظم فارسی کا کورس شروع کر دیا۔ 1947ء تک کریما و پند نامہ سوری تا مثنوی شریف پڑھی۔ 1947ء میں علما محمد نواز اویسی، الحاج خورشید احمد اور الحاج محمد عبد الکریم سے درسِ نظامی کی تعلیم حاصل کی اور 1951ء میں درس نظامی کا کورس انہی اساتذہ سے مکمل کیا۔1952ﺀ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺪﺙ ﺍﻋﻈﻢ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺍﺣﻤﺪ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤﮧ (فیصل ﺁﺑﺎﺩ ) ﺳﮯ ﺩﻭﺭﮦ ﺣﺪﯾﺚ ﺷﺮﯾﻒ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﺪ ﻓﺮﺍﻏﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ۔


تدریسی زندگی: ﺟﺎﻣﻌﮧ ﺭﺿﻮﯾﮧ ﻓﯿﺼﻞ ﺁﺑﺎﺩ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﻏﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﺑﺎﺋﯽ ﮔﺎﺋﻮﮞ ﺣﺎﻣﺪ ﺁﺑﺎﺩ ﻣﯿﮟ ’’ﻣﺪﺭﺳﮧ ﻣﻨﺒﻊ ﺍﻟﻔﯿﻮﺽ ‘‘ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ۔ 

ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﺜﯿﺮ ﻃﻠﺒﺎﺀ ﻧﮯ ﺍﮐﺘﺴﺎﺏ ﻓﯿﺾ ﮐﯿﺎ۔ 1963ﺀ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﻣﺪ ﺁﺑﺎﺩ ﺳﮯ ﺑﮩﺎﻭﻟﭙﻮﺭ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻣﺴﺎﺟﺪ ﮐﻮ ﺩﺍﺭﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ﻭﺍﻻﺭﺷﺎﺩ ﺑﻨﺎﯾﺎ۔ 1963 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻗﻄﻌﮧ ﺯﻣﯿﻦ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﺟﺎﻣﻊ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﯿﺮﺍﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻣﻌﮧ ﺍﻭﯾﺴﯿﮧ ﺭﺿﻮﯾﮧ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ۔ 

ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺷﻌﺒﮧ ﺣﻔﻆ، ﺩﺭﺱ ﻧﻈﺎﻣﯽ، ﺩﻭﺭﮦ ﺣﺪﯾﺚ، ﺩﺍﺭﺍﻻﻓﺘﺎﺀ ﻗﺎﺋﻢ ﻓﺮﻣﺎئی۔ 

ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻧﮯ ﺟﺎﻣﻌﮧ ﺍﻭﯾﺴﯿﮧ ﺭﺿﻮﯾﮧ ﺳﮯ ﺍﮐﺘﺴﺎﺏ فیض حاصل ﮐﯿﺎ ﺁﺝ ﺧﺪﻣﺖ ﺩﯾﻦ ﻣﺘﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﮨﯿﮟ۔ 

ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﺮﮐﺰﯼ ﺩﺍﺭﺍﻟﻌﻠﻮﻡ 20 ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﺷﺎﺧﯿﮟ ﺧﺪﻣﺖ ﺩﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﻋﻤﻞ ﮨﯿﮟ۔ 1961ﺀ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺩﻭﺭﮦ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔ 

ﺧﺎﻧﭙﻮﺭ، ﺑﮩﺎﻭﻟﭙﻮﺭ، ﺧﺎﻧﯿﻮﺍﻝ، ﻓﯿﺼﻞ ﺁﺑﺎﺩ، ﺑﻨﺪﯾﺎﻝ ﺷﺮﯾﻒ، ﻣﯿﺎﻧﻮﺍﻟﯽ، ﻻﮨﻮﺭ، ﻣﺮﯾﺪﮐﮯ، ﮐﺎﻣﻮﻧﮑﯽ، ﮔﻮﺟﺮﺍﻧﻮﺍﻟﮧ، ﺧﯿﺮﭘﻮﺭ ﻣﯿﺮﺱ، ﺩﺍﺩﻭ ﺳﻨﺪﮪ، ﺧﯿﺮﭘﻮﺭ ﻣﯿﺮﺱ، ﻻﮌﮐﺎﻧﮧ، ﺣﯿﺪﺭﺁﺑﺎﺩ، ﮐﺮﺍﭼﯽ، ﺳﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﭩﮧ ﻣﯿﮟ 71 ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺩﻭﺭﮦ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ۔ 

ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﻤﻮﻋﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ 6000 ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻧﮯ ﻋﻠﻢ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ۔ 

ﺗﺪﺭﯾﺲ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺁﭖ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﯾﺪﻃﻮﻟﯽٰ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ 

ﺁﭖ ﮐﯽ ﺗﻘﺮﯾﺮ ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺳﻨﺖ ﮐﮯ ﺩﻻﺋﻞ ﺳﮯ ﻣﺰﯾﻦ ﻋﺎﻡ ﻓﮩﻢ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ 

ﻋﻮﺍﻡ ﻭ ﺧﻮﺍﺹ ﺳﺒﮭﯽ ﺍﺳﺘﻔﺎﺩﮦ ﮐﺮﺗﮯ۔ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺻﻮﺑﻮﮞ ﺑﺸﻤﻮﻝ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺧﻄﺎﺑﺖ ﮐﯽ ﺩﮬﻮﻡ ﺗﮭﯽ۔ 

ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻻﺋﻞ ﻗﺎﮨﺮﮦ ﺳﮯ ﻣﺪﻣﻘﺎﺑﻞ ﮐﺎ ﺭﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺟﻮ ﻣﻠﮑﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺁﭖ ﮨﯽ ﮐﺎ ﺧﺎﺻﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﺧﻄﺎﺏ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﯿﺎ ﻣﺠﺎﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﮐﺘﺎﮨﭧ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﮯ۔ سبحان اللہ


علمی مقام: مفتی فیض احمد اویسی علیہ الرحمہ کی تصانیف کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ 

ان کے زمانہ طالب علم سے آخری لمحہ تک یہ سلسلہ مسلسل غیر منقطع رہا۔ 

ان کی خواہش تھی کی خدا تعالیٰ کریم کرے بوقت مرگ بھی قلم ہاتھ میں ہو۔ 

انہوں نے ساڑھے تین ہزار سے زائد تصانیف و رسائل و تراجم لکھے۔ 

ان کی تفصیل ضخیم کتاب علم کے موتی قسط اول و دوم کراچی سے شائع ہوئی ہے۔ 

وہ 1937ء۔ 1938ء میں پرائمری اسکول میں داخل ہوئے تو اس وقت سے سلسلہ فن تحریر بھی شروع ہوا۔ 

اس وقت ان کی عمر سات یا آٹھ سال تھی۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻤﯽ ﮨﯽ ﺳﮯ ﺗﺼﻨﯿﻒ ﻭ ﺗﺎﻟﯿﻒ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺷﺮﻭﻉ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺗﺼﻨﯿﻔﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ 4000 ﺳﮯ ﻣﺘﺠﺎﻭﺯ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔


تصانیفات: ﭘﮩﻠﯽ ﮐﺘﺎﺏ ’’ ﮐﺎﺭﺁﻣﺪ ﻣﺴﺎﺋﻞ ‘‘ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﻃﺒﻊ ﮨﻮﺋﯽ۔

ﻓﯿﻮﺽ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﺭﻭﺡ ﺍﻟﺒﯿﺎﻥ (12 ﺟﻠﺪﯾﮟ)،

ﻓﻀﻞﺍﻟﻤﻨﺎﻥ ﻓﯽ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺁﯾﺎﺕ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ (ﻋﺮﺑﯽ ) 10 ﺟﻠﺪﯾﮟ،

ﺗﻔﺴﯿﺮ ﻓﯿﺾ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ ﺍﺭﺩﻭ (10 ﺟﻠﺪﯾﮟ)،

ﻓﯿﺾ ﺍﻟﺮﺳﻮﻝ ﻓﯽﺍﺳﺒﺎﺏ ﺍﻟﻨﺰﻭﻝ (10 ﺟﻠﺪﯾﮟ،)

ﺷﺮﺡ ﺣﺪﺍﺋﻖ ﺑﺨﺸﺶ (25ﺟﻠﺪﯾﮟ،)

ﺷﺮﺡ ﻣﺜﻨﻮﯼ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺭﻭﻡ (25 ﺟﻠﺪﯾﮟ،)

ﺍﻟﻔﯿﺾﺍﻟﺠﺎﺭﯼ ﺷﺮﺡ ﺻﺤﯿﺢ ﺑﺨﺎﺭﯼ (10 ﺟﻠﺪﯾﮟ،)

ﺍﺣﺎﺩﯾﺚﻣﻮﺿﻮﻋﮧ (5 ﺟﻠﺪﯾﮟ،)

ﻣﻮﺍﻋﻈﮧ ﺍﻭﯾﺴﯿﮧ (10 ﺟﻠﺪﯾﮟ)،

ﺍﻟﻠﻤﻌﺎﺕ ﺷﺮﺡ ﻣﺸﮑﻮٰۃ (5 ﺟﻠﺪﯾﮟ،)

ﮐﺸﮑﻮﻝ ﺍﻭﯾﺴﯽ (10ﺟﻠﺪﯾﮟ)،

ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮨﺸﺖ ﻣﺴﺌﻠﮧ (10 ﺟﻠﺪﯾﮟ،)

ﻓﺘﺎﻭﯼٰ ﺍﻭﯾﺴﯿﮧ (10 ﺟﻠﺪﯾﮟ،)

ﺷﺮﺡ ﺩﺍﺭﻣﯽ (8 ﺟﻠﺪﯾﮟ)،

ﺭﺳﺎﺋﻞ ﺍﻭﯾﺴﯿﮧ (5 ﺟﻠﺪﯾﮟ)،

ﺭﺍﺯﻭﻧﯿﺎﺯ (5 ﺟﻠﺪﯾﮟ،)

ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﺎ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻧﺼﺎﺏ

5 ﺟﻠﺪﯾﮟ، ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺍﻭﯾﺴﯽ (15 ﺟﻠﺪﯾﮟ،)

ﺗﺮﺟﻤﮧ ﻭ ﺣﺎﺷﯿﮧ ﻣﺴﻠﻢ ﺷﺮﯾﻒ (10 ﺟﻠﺪﯾﮟ،)

ﺗﺮﺟﻤﮧ ﻭ ﺣﺎﺷﯿﮧ ﺗﺮﻣﺬﯼ شرﯾﻒ (5 ﺟﻠﺪﯾﮟ،)

ﺑﯿﺎﺽ ﺍﻭﯾﺴﯽ (5 ﺟﻠﺪﯾﮟ،)

ﺍﻭﯾﺴﯽ ﻧﺎﻣﮧ (5 ﺟﻠﺪﯾﮟ، )

ﺷﺮﺡ ﺩﺍﺭ ﻗﻄﻨﯽ (10 ﺟﻠﺪﯾﮟ، )

ﺍﻻﺣﺎﺩﯾﺚ ﺍﻟﺴﻨﯿﮧ ﻓﯽ ﺍﻟﻔﺘﺎﻭﯼٰ ﺍﻟﺮﺿﻮﯾﮧ(5 ﺟﻠﺪﯾﮟ)

ﻧﻌﻢ ﺍﻟﺤﺎﻣﯽ ﺷﺮﺡ ﺎﻣﯽ (10 ﺟﻠﺪﯾﮟ)

فرشتے ہی فرشتے

علم کے موتی

تاثرات برائے فیض ملت

فاطمی و غیر فاطمی سید کی پہچان

سوانح خواجہ غریب نواز

الستی شراب

گاجر کے فوائد

الناسخ و المنسوخ فی الاحادیث

دو قومی نظریہ اور علمائے اہلسنت

تاریخ تعمیر کعبہ

نبی کریم کی مکی زندگی

البرہان فی السور و القرآن

میت کی نجات کے اسباب

ذاتی و عطائی کا فرق

پان کی شان وغیرہ اس کے علاوہ اور بہت کتب تحریر فرمائے۔

ان شاء اللہ میرے اس بلوگ پر مفتی صاحب کی تمام کتب کو پی ڈی ایف فائل میں اپلوڈ کر دوں گا۔

https://quranohadees202.blogspot.com


وفات: آپ علیہ الرحمہ کا وصال 15 ﺭﻣﻀﺎﻥ 1431ھ ﺑﻤﻄﺎﺑﻖ 26 ﺍﮔﺴﺖ ﺑﺮﻭﺯ ﺟﻤﻌﺮﺍﺕ 2010ء ﺑﻮﻗﺖ ﺻﺒﺢ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻭﺻﺎﻝ ﮨﻮﺍ۔ ﺭﺍﺕ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﺑﺠﮯ ﻣﺮﮐﺰﯼ ﻋﯿﺪﮔﺎﮦ  ﺑﮩﺎﻭﻟﭙﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺍﺩﺍ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ۔

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ۔

No comments:

Post a Comment

Comments